Saturday, 16 August 2014

یہ لانگ مارچ کس کا ہے ؟

تاریخ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد خود کو دہراتی ہے آج کے سیاسی  منظر
نامے کو دیکھا جائے تو یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے  

١٩٧٧  کے انتخابات میں  چند حلقوں پر دھاندلی کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک اور بھٹو کے درمیان مزاکرات کامیابی کے نزدیک تھے کہ پی  این اے  کی تحریک کے اہم رہنما اصغر خان نے ایک بیان میں فوج کو عوام کی مدد کے لئے بلانے کا بیان جاری کیا اس بیان کو تمام اخبارات نے شہ سرخی کے طور پر چھاپا اگرچہ پی این اے کے تمام  رہنماؤں  نے اس بیان کی مذمت کی اور  اصغر خان نے یہ بیان واپس لے لیا بعد میں بھٹو نے اپوزیشن کے مطالبات بھی تسلیم کر لئے اور معاہدہ بھی ہو گیا  لیکن نقصان ہو چکا تھا   

پی این اے  کی تحریک کے سینکڑوں  کارکنان پر فوج نے گولی چلائی  دھاندلی  کے خلاف چلنے والی اس تحریک میں ہونے والی تمام شہادتوں کے مقصد پر فوج کر مارشل لاء  کی وجہ سے سوالیہ نشان لگ گیا  کہنے  والے آج بھی کہتے ہیں کہ ان تمام قربانیوں کا مقصد فوج کی راہ ہموار کرنا تھا

موجودہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی  یہ بات ہر کوئی جانتا ہے اور الیکشن  کمیشن نے یہ بات تسلیم کی کہ سندھ اور خاص  طور پر کراچی میں انتخابات کا آزادانہ اور منصفانہ انعقاد ممکن نہیں ہو سکا ، فاٹا  میں دھاندلی ہوئی اور باجوڑ  میں تو پولنگ سٹیشنز سے ڈبے  تک اٹھا لئے گئے اور ایک من پسند بندے کی کامیابی کا "فرشتوں " نے اعلان  کر دیا . تحریک انصاف نے کراچی میں ایک حلقے میں کامیابی پر اکتفا کیا فاٹا میں دھاندلی کو یکسر نظر انداز کیا  اور دھاندلی کے خلاف اپنی کیمپین پنجاب کے  چار حلقوں تک محدود رکھی یہ تحریک انصاف کی پہلی غلطی تھی اس کے بعد یہ تحریک جس انداز سے آگے چلی اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ  تحریک انصاف کی دھاندلی کے خلاف تحریک کو  اسٹبلشمنٹ  نے ہائی جیک  کر لیا ہے  اور وہ تحریک کی مقبولیت  کے بل پر  اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں 
 عمران خان کو  جہانگیر ترین اور شیخ رشید نے خیبر پختونخواہ سے مستعفی  ہونے اور موجودہ نظام کو تلپٹ کرنے کے مطالبے پر راضی کیا  پارٹی کے اندر اس مطالبے کے حق میں  اسد عمر اور جہانگیر ترین نے لابنگ کی  
پارٹی کے اندر عمران کو اس سیاسی خود کشی  سے روکنے والوں میں جاوید ہاشمی گروپ تھا   جن کو بعد میں کسی میٹنگ میں بلایا تک نہیں گیا اور عارف علوی کو اس حماقت کی مخالفت کرنے پر شیریں مزاری نے جماعتیا تک کہا  
ویسے کوئی یہ دیکھنے  کی زحمت کرے گا کہ شیخ  صاحب کے عمران خان کے بارے  میں آج سے چار سال پہلے کیا خیالات تھے اور شیریں  مزاری نے عمران خان کے حوالے سے کتنی منفی سیاست کی تھی اور اسد عمر لاہور کے جلسے سے
پہلے کہاں تھے ؟ 
عمران خان نے  کسی سیاسی جماعت  سے مشوره کرنا  گوارا  نہیں کیا لانگ مارچ کا  فیصلہ کرنے کے ایک مہینے کے بعد    جماعت اسلامی کے پاس اسد عمر کو بھیجا   جنھوں نے خیبر پختون خواہ  میں جماعت سے  PTI کے ساتھ مل کر استعفے  دینے کا مطالبہ کیا  جماعت  نے اس فیصلے کو سیاسی خودکشی  سے تعبیر  کیا   

بات یہیں  ختم نہیں ہوتی  
اسلام آباد اور راولپنڈی میں  لانگ  مارچ کے حوالے سے کوئی  آیکٹویٹی نہیں کی گئی کوئی کیمپ نہیں لگایا  گیا اور نہ ہی کہیں کوئی بینر آویزاں  کیا گیا  
اسلام آباد اور راولپنڈی کی تنظیم نے کارکنان کی رہائش  اور خوراک  کے لئے  کوئی بندوبست  نہیں کیا اسد عمر  جلسہ ختم ہوتے  ہی اپنے ایف -ٹن میں واقع رہائش گاہ چلے گئے شیخ رشید کوئی کارکن نہیں لائے تھے یہاں تک کہ کوئی گاڑی بھی  ان کے ساتھ  نہیں تھی جلسہ ختم ہونے پر سرکاری گاڑی میں لال حویلی چلے گئے 
بات یہاں تک بھی محدود نہیں ہے   
گوجرانوالہ   میں  جب آزادی  مارچ  پر پتھراؤ  ہوا تو فائرنگ  کی افواہ پھیلانے

والے  بھی شیخ  صاحب تھے بلکہ شیخ  صاحب نے تو خانہ  جنگی شروع ہونے کی پیشنگوئی  بھی کردی  تھی اب    یہ مطالبہ کہ ریڈ زون میں  آگے  بڑھ کر  معاملات کو اپنے ہاتھ میں کر لیں اس سب کا آخر مقصود  ہے کیا ؟  اسلام آباد میں چند لاشیں گرا کر ان پر اپنی سیاست کا تاج محل  کھڑا  کرنے کے خواہشمند کامیاب ہوں گے یا تحریک انصاف کا وہ کارکن جو انصاف  کی امید پر اس برستی بارش میں اپنی بچی کے ساتھ بیٹھا ہے  یہ تو وقت بتائے گا لیکن فل حال "پنڈی" کی "حویلی" والوں کا پلڑہ  بھاری لگتا ہے

Wednesday, 14 May 2014

ہمیں اصل "خطرہ" کس سے ہے ؟

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہماری قوم بلکہ اقوام عالم  کی حالت اس گھوڑے سے بھی بری ہے  جس کی آنکھوں پر کھوپے لگے ہوتے ہیں تاکہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے اور جدھر کو دوڑائیں دورتہ چلا جائے
اقوام عالم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلام ان کی "تہذیب" کے لئے خطرہ ہے اس خطرے کو بچ کر چند سرمایہ دار  جنگوں کا کھیل کھیلتے ہیں جو لاکھوں لوگوں کی جانیں لیتا ہے لیکن یہ سرمایہ دار امیر سے امیر تر ہوتے ہیں
مسلم ممالک کی افواج  اپنے عوام کو یہ بتاتی ہیں کہ پوری دنیا اپ کی دشمن ہے صرف ایک وہی ان کو اس خطرے سے بچا سکتے ہیں اس "خطرے" کو جواز بنا کر مصر پاکستان اور ترکی میں تعیش اقتدار اور طاقت کا کھیل کھلا جاتا ہے اس کھیل کا مہرہ کبھی فرقہ پرست مولوی بنتا ہے کبھی قوم پرست اور کبھی لبرل مزے کی بات تو یہ ہے کہ "خطرہ" جس سے دہرایا جاتا ہے یہ سارا کھیل اسے خطرے کے کھلاڑیوں کی کھلے عام امداد سے ہوتا ہے

نہ تو اقوام عالم  کی "تہذیب" کو اسلام سے کوئی خطرہ ہے نہ ہی اسلام کو ایک یہودی نصرانی یا ہندو سے کوئی خطرہ ہے
خطرہ تو ان سرما یہ داروں ، جاگیرداروں ، جرنیلوں کو ہے
گھوڑے  کو کھوپے اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ وہ آزادی کا خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ہمیں تو کھوپے لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہے






Sunday, 6 April 2014

فیس بک پر فحش مواد شئیر ہونے سے چھٹکارا پانے کا طریقہ

بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ فیس بک سے ایک غیر اخلاقی ویڈیو ( وائرس ) خودبخود شئیر ہو رہا ہے اور ان کے تمام دوستوں کو جا رہا ہے۔ اسی طرح کسی دوست کی ایکٹیویٹی نیوز فیڈ میں نظر آتی ہے جس میں اس دوست کی طرف سے بہت سے غیر اخلاقی پیجز لائک ہوئے ہوتے ہیں جو کہ حقیقت میں اسی وائرس سے ملحقہ ایک وائرس ہے


-
پہلی بات یہ کہ یہ خود بخود نہیں ہوتا، آپ ایک ایپ کو اجازت دیتے ہیں اور وہ آپ کی اجازت سے یہ سب کرتی ہے۔ فیس بک کی سیٹنگ میں جا کر اپپس کا صفحہ کھولیں اور اپپ کو اس کی ایکٹیویٹی کے ساتھ ڈیلیٹ کر دیں۔ طریقہ ذیل کی تصویر میں دیا گیا ہے۔ جزاک اللہ

بھینسے کا انقلاب


کسی جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جنگل کے جس حصے میں وہ قیام پذیر تھا وہاں گھاس کی کافی قلت تھی۔ وہ چرنے کیلیے جنگل کے دیگر قطعوں میں جانے سے ڈرتا تھا کیوں کہ وہاں دیگر جانوروں کا راج تھا اور وہ اسے ادھر پھٹکنے نہیں دیتے تھے اور اسے مار بھگاتے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھینسا بہت کمزور ہو گیا۔
ایک رات بھینسا سویا ہوا تھا کہ اسے خواب میں ایک بزرگ بھینسے کی روح کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے اسے حالات تبدیل کرنے کیلیے جنگل کی سیاست میں عملی حصہ لینے کا مشورہ دیا اور کامیابی کی بشارت بھی دی۔ صبح اٹھ کر بھینسے نے بزرگ بھینسے کی روح کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ابتدا میں بھینسے نے اپنے قطعہ کے کمزور جانوروں کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ جانوروں کا ایک گروہ اس کا ہم خیال بن گیا اور انہوں نے جنگل کے دیگر قطعوں میں ابھی اپنے انقلابی نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور بھینسے کے گرد بے شمار جانور اکٹھے ہو گئے جن میں اکثر خونخوار درندے بھی شامل تھے۔ اب بھینسے نے انہیں جنگل کا کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دے دیا اور جنگل میں ایک نہ ختم ہونے والا خون خرابہ شروع ہو گیا۔
جنگ کے دوران جب بھینسے پر بھی حملے ہوئے تو وہ جان بچانے کیلیے ایک دور دراز جنگل میں بھاگ گیا اور وہاں پناہ حاصل کی۔ وہاں کی آب و ہوا اور خوراک بھینسے کو خوب راس آئی اور اس کی گردن اور منہ خوب موٹے ہو گئے اور پیٹ کا حجم تین گنا ہو گیا۔
اب بھینسا وہاں موٹاپے کی وجہ سے عجیب و غریب آواز میں ڈکراتا پھرتا ہے اور وہاں سے اپنے گروہ کو جنگی ہدایات بھیجتا رہتا ہے اور اس کے گروہ کے جانور جنگل میں اقتدار کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بعض جانور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ واپس اپنے جنگل میں چلے جاؤ مگر بھینسا انتہائی سیانا ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انقلاب اپنے رہنما کا خون مانگتا ہے اور بھینسے کو اپنی جان بہت پیاری ہے،،،،
آگے آپ خود سمجھدار ہیں

Saturday, 5 April 2014

سٹیگرس کا سقراط اور پاکستان کے بقراط


  پنجابی کی ایک کہاوت ہے"لچ تلنا" اس کہاوت کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک دیہاتی دیہات سے شہر آیا تو اپنے ساتھ اپنا کھانا جو کے گُڑ والی ایک موٹی سی روٹی تھی ساتھ لیتا آیا۔ شہر میں گھومتے ہوئے اسے ایک ایک جگہ ایک بندہ کڑائی میں کچھ تلتے نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ گڑ والی چھوٹی چھوٹی ٹکیاں تیل میں تل رہا تھا۔ اس نے پوچھا یہ تم کیا کر رہے ہو تو وہ بولا میں " لُچیاں " تل رہا ہوں۔ اس نے اپنی موٹی سی روٹی نکالی، جو کہ لچیوں کے مقابلے میں بہت ہی بڑی تھی، اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھی لچ تل لو توبھائی ہمارےپاکستان کےبہت سےکالم نگار بھی اس دیہاتی کی طرح ہیں اب ہم ان معزز کالم  نگاروں  کو دیہاتی کہنے کی جسارت تو نہیں کریں گے کیونکہ وہ دیہاتی تو بیچارہ شریف اور سادہ بندہ تھا جو بیچارہ اپنا "لچ تلنے" کے چکر میں بدنام ہو گیا ہمارے یہ معزز کالم  نگارتو "لچے تلنے" میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جہاں پر ان کو چھوٹی چھوٹی لچیاں تلتا کوئی بندہ نظر اتا ہے وہاں یہ اپنا لچ لے کر پھنچ جاتے ہیں-


ایک صاحب نے بھی گزشتہ روز ایسے ہی ایک لچ تلی اب میں جماعت اسلامی ، جماعت اسلامی کے انتخابات ، جماعت کے بتیس ہزار ارکان کے اوپر اسٹبلشمنٹ کے اثر انداز ہونے ، اور جماعت کے قائدین کے بارے میں نازیبا الفاظ کی تفصیلات میں تو نہیں جاؤں گا بس ان کے اپنے کالم کا ایک بہت بڑا تضاد آپ کے سامنے یہ ثابت کرنے کو پیش کرتا ہوں  کہ اپنی لچ تلنے کے لئے یہ اصحاب کیسے کیسے کمالات دکھانے سے نہیں چوکتے-

کالم کے دوسرے حصے میں قاضی حسین احمد کے حوالے سے پہلے یہ کہا گیا کہ قاضی حسین  احمد نے انتخابات میں کامیابی کے لئے ایک لمبا پلان ترتیب دیا تھا لیکن وقتی جوش میں "دوسروں" کے جھانسے میں آ کر  قاضی حسین احمد انتخابات میں حصہ لے بیٹھے آگے اس حوالے سے انتخابات مین ناکامیوں پر تبصرہ ہے لیکن آگے چل کر فرماتے ہیں کہ قاضی حسین احمد نے انتخابات میں بائیکاٹ کا بلنڈر دو مرتبہ کیا  ایک ہی کالم میں کالم نگار پہلے قاضی حسین احمد مرحوم کے انتخابات میں حصہ لینے کو ایجنسیوں کے جھانسے میں آ کر کی جانے والی غلطی کہتا ہے پھر قاضی حسین احمد کے انتخابات میں حصہ لینے کو بھی بلنڈر کہا جاتا ہے یعنی حصہ لیں تو ایجینسیوں کے ایجنٹ اور نہ لیں تو بلنڈر- 

لب لباب ان صاحب کے کہنے کا  یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے منظم تحریک کے سب سے قابل افراد اور اس کی قیادت کو پاکستان کے ایک ایسے ادارے نے یرغمال بنا کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروا لئے جس کے اپنے فیصلے واشنگٹن سے کولن پول کی ایک کال پر ہو جاتے ہیں  - پاکستان کے ان تمام "اہل دانش " سے گزارش ہے کہ حضرات یہ تحریک اس کی قیادت اور اس کے فیصلہ ساز ادارے اتنے مظبوط ہیں کہ مخالفتوں کے طوفان میں بھی حق بات کہنے سے نہیں چوکتے یقین نہ آئے تو تحریک اسلامی کی شوریٰ کا بیان پڑھیں جو آئ ایس پی آر کے بیان کے جواب میں آیا تھا-

رہی بات سید صاحب کی تو  وہ افراد جو کل تک ایسٹیبلشمنٹ کی خدمات کی لمبی لسٹیں ہاتھوں میں لئے سید منور حسن صاحب کو معطون کرتے نہ تھکتے تھے جو کہتے تھے کہ سید صاحب نے ہماری سالوں کی محنت اور رابطوں پر پانی پھیر کر تحریک کو طاقت کے عفریب کے سامنے کھڑا کر دیا ہےآج وہ تمام اصحاب سید صاحب کی محبّت کا بخار اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے کی لمبی فہرستیں ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں ایسے بھی کالم نگار ہیں جنھوں نے اپنے قلم کے نشتر سید صاحب پر استعمال کیے اسٹبلشمنٹ کی "مہربانیوں" کے تذکروں اور تحریکیوں کی "ناشکری" کی داستانوں کی داستانیں لکھی آج وہ بھی سید صاحب کو سقراط بنا کر پیش کرتے ہیں اور تحریک کے کارکنان اور ارکان ان تحریروں کو جو قدر و منزلت دیتے ہیں اس سے جھوٹ اور منافقت کی طاقت اور قوت کا اندازہ ہو جاتا ہے-

Thursday, 3 April 2014

تحریک اسلامی کے پانچویں امیر سراج الحق




 ہماری تاریخ میں کتنے لوگ ہو گزرے جنھوں نے یہ خواہش کی لیکن وہ سیّد مودودی کی طرح خوش بخت ثابت نہ ہو سکے۔شبلی کے منصوبے کاغذوں تک محدود رہے۔ ابوالکلام نے جماعت تک بنا ڈالی لیکن اگرکوئی ان کی داستانِِ حسرت سننا چاہے تو ان کا وہ نوحہ پڑھ لے جسے جامع مسجد دلی کے میناروں نے سنا اور رو دیے۔ علامہ اقبال تو زندگی کے آخری ایّام میں بھی ایک جماعت کا خواب دیکھتے رہے لیکن اس کی تعبیر کوئی نہ دے سکا۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودی

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کا معاملہ ان سے مختلف رہا۔ ان کی علمی آراء ، نتائج فکر ،حکمتِ عملی، ہر پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور سچ یہ ہے کہ اﷲ کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کے بعد یہ کس کی حیثیت ہے کہ اس کی شخصیت کا ہر پہلو تنقید اور نقص سے پاک ہو، لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ سیّد مودودی کے افکار نے ایک زمانے پر اپنا اثر ڈالا۔ ان کی فکر کو کروڑوں لوگوں نے دین کی واحد تعبیر کے طور پرقبول کیا ۔ ایک جماعت وجود میں آئی جس کے نظم کے تحت لاکھوں لوگوں نے اس فکر کے فروغ کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ سیاست اور سماج کی وادیوں میں اس کی صداے بازگشت سنی گئی۔




جماعت اسلامی آج ایک منظم جماعت اور ادارہ ہے۔ اس کی اساس ایک فکر پرہے اور یہی جماعت سے وابستگی کے لیے سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ سراج الحق اس جماعت کے پانچویں امیر ہیں ۔
پانچوں امراء کے مابین کوئی خونی تعلق ہے نہ علاقائی۔ بانی امیر حیدر آباد دکن کے تھے تو دوسرے پنجاب سے۔ تیسرے پٹھان تھے تو چوتھے ’’مہاجر‘‘ اور پانچویں مشوانی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان سب کا انتخاب ہوا۔ جماعت اسلامی کے ارکان نے انھیں اپنے ووٹوں سے چُنا۔ ووٹ دینے والے چاروں صوبوں کے تھے اور ہر رنگ و نسل کے۔ لیکن ان کی تربیت اس نہج پر ہوئی کہ
ایسا کوئی تعلق، رشتہ اور وابستگی ان کے نزدیک امارت کا پیمانہ نہیں تھی جنھیں سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کی بنیاد پر ہمارے ہاں کم و پیش ہر سیاسی و مذہبی جماعت میں قیادت کا انتخاب ہوتا ہے۔ ’’انتخاب‘‘ کا لفظ شاید معاملے کی صحیح تعبیر نہ ہو،

درحقیقت لوگ رنگ، نسل اور وراثت کے اصول پر اپنی جماعتوں پر مسلط ہوتے اور اسے اپنا استحقاق سمجھتے ہیں ۔جماعت کے اندرونی انتخابی کلچر کا معاملہ ہر دوسرے انتخاب سے بالکل مختلف ہے۔ مثلاٗ پہلے امیر سید ابو االا علیٰ نے جب ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا اور جماعت کا نظریہ انہیں پیش کرنے کے بعد کہا کہ آپ یہ نہ سمچھیں کہ میں نے آپ کو جمع کیا ہے اور میں ہی آپ کا امیر ہوں گا۔ بلکہ آپ جس کو مناسب سمجھیں امیر بنائیں۔ اور میں اپنے سے بہتر شخص کے لیے ہر وقت جگہ خالی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کم و بیش یہی اسپرٹ ہر انتخاب میں پائی جاتی ہے۔ یہاں ذمہ داری کو بار گراں سمچھتے ہو ئے ہر کو ئی اس سے جلد سبکدوش ہونا چاہتا ہے۔ اور یہی بنیادی سائنس ہی سارے انتخاب کی گیم بدل دیتی ہے -

میڈیا اور لبرل حضرت کی گھڑی ہوئی یہ منطق کہ سید منور حسن پاکستان کی طاقتور اسٹبلشمنٹ کےخلاف سٹینڈ  لینے کی وجہ سے ارکان جماعت کی حمایت سے محروم ہو گئے یہ بات کہنے والے نہ جماعت کو جانتے ہیں نہ تاریخ کو اور نہ تاریخ  میں جماعت  کے عظیم کردار کو  لیکن  ہم بخوبی  نظریات  سے عاری ان افراد کی تحریکوں کے ماضی  سے واقف ہیں اور  پاکستان کے عوام بھی   ان افراد کی اچانک فوج کے لئے جاگ اٹھنے والی"محبّت" سے  بخوبی واقف  ہیں-  

جماعت اسلامی پاکستان میں فوج کے کسی بھی غیر جمہوری کردار کے ہمیشہ خلاف رہی ہے مولانا مودودی نے ایوبی آمریت کا پہلے دن سے مقابلہ کیا اور حقیقت میں پاکستان کی آمرانہ  حکومتوں کے اقدامات کا   چاہے وہ پٹھانکوٹ پر حملہ کرنے کے حوالے سے سید مودودی  کے مشورے سے فوج کے پہلے سربراہ کا انکار ہو،  مولانا مودودی کی تختہ دار پر عزیمت ہو  مشرقی پاکستان میں فوج کی  شکست ہو افغانستان میں گلبدین حکمتیار کو اقتدار سے محروم رکھنے کے لئے کی گئی تخلیق ہو  یا کشمیر پر مشرف کا یو ٹرن  ہو کا سب سے بڑا خمیازہ جماعت اسلامی کو بھگتنا پڑا ہے- ان تمام تاریخی حقائق  کے باوجود جب یہ کہا جاتا ہے کہ سید منور حسن نے جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کے مقابل کھڑا  کر دیا تھا تو یہ ایک مضحکہ خیز سی بات لگتی ہے اور کہنے والے اس سے پہلے یہ عجیب و غریب منطقیں تمام امراے جماعت کے خلاف کرتے رہے ہیں ایک صاحب نے فرمایا تھا "مودودی صاحب کو اگر نکال دیا جائے تو پاکستان میں مہمات سے بہتر جماعت موجود نہیں" پھر انہی    جو لوگ جماعت کے اندرونی نظام کو قیادت کو اور اختیارات کی تقسیم کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ  تحریک میں پالیسیاں نہ تو فرد واحد بناتا ہے اور نہ ہی اس کی پسند اور ناپسند  سے تحریک  کے فیصلے کے جاتے  ہیں


امریکہ میں ٩١١ کے واقعے کے بعد  جماعت اسلامی کا موقف بالکل واضح رہا ہے کہ  امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ" دراصل اسلام کے خلاف جنگ ہےجماعت اسلامی نے اس جنگ کی روز اول سے مذمت کی ہے جماعت اسلامی  "دفاع افغانستان پاکستان  کونسل " کی بانی جماعت تھی افغانستان پر امریکہ کے حملے  کے بعد شدید احتجاج کیا پھر جب وزیرستان میں پہلا آپریشن کیا گیا  اور پھر جس طرح واشنگٹن میں جا کر خوشیوں کے شادیانے بجاے گئے اس پر قاضی حسین احمد کا احتجاج آج بھی قومی آسمبلی کے ریکارڈ  میں موجود ہے


اس لئے یہ بات کہنا کہ راتوں رات سید صاحب نے کوئی نئی بات کر دی تھی عقل سے پیدل لوگوں کی منطق  سے زیادہ کچھ نہیں جماعت اسلامی آج بھی اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ ایک آمر نے اپنے غیر آئینی' اور غیر قانونی  اقتدار کو دوام دینے کے لئے غیروں کی جنگ میں پاکستان کی فوج اور ملک کو جھونک دیا ہے اور  اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ دوسروں کی اس جنگ سے نکلا  جائے اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اراکین جماعت جا جماعت کی شوریٰ کی راۓ اس سے مختلف ہو سکتی ہے تو وہ تحریک اسلامی کے مزاج  کو نہیں سمجھتا امریکہ کی جنگ ، اس میں اتحادی بنانے کے مضمرات  اور طاقت سے ہر مسلۓ کے حل کے خلاف  تحریک اسلامی کے تمام ارکان میں مکمل یکسوئی پائی جاتی ہے اور اس موقف کو واضح انداز سے بیان کرنے پر  تحریک کی شوریٰ نے جس طرح قائد کی تائید کی تھی وہ بہت کچھ سمجھانے کو کافی ہے





عالم عرب میں انے والے انقلاب  اور اس کے بعد منتخب اسلامی حکومتوں کے خلاف عالمی استعمار کے کی چڑھائی کے بعد اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے اراکین جماعت  اخوان سے کچھ مختلف سوچ رہے ہوں گے تو وہ دونوں اسلامی تحریکوں کی تاریخ سے واقفیت نہیں رکھتا


       
قاضی حسین احمد نے جب  انتخاب میں اپنی خرابی صحت کی وجہ سے  امارت کا بار اٹھانے سے معذرت کی شوریٰ نے ان کی معذرت قبول کر کے انتخاب میں اراکین کے سامنے تین نام تجویز کیے اراکین نے کثرت راۓ سے سید منور حسن کو جماعت اسلامی کی امارت کے لئے منتخب کیا سید منور حسن  کو اراکین کی بھاری اکثریت نے منتخب کیا لیکن کثیر تعداد میں اراکین نے  سراج الحق بھائی کا نام بھی تجویز  کیا تھا اس سے پہلے ہونے والے تمام انتخابات میں تقریباً اتفاق رائے  سے امیر جماعت کا انتخاب ہوتا تھا اس لئے یہ بات کرنا کہ جماعت اسلامی کے اس انتخاب میں روایات سے ہٹ کر کوئی بات ہوئی ہے برخلاف  واقعہ ہے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ جماعت اسلامی کے ہر نئے امیر کا انتخاب پہلے سے مختلف روایت کا حامل رہا ہے بلکہ  اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جہاں شخصیت  پرستی کا کوئی تصور نہیں اور تحریک کے افراد جس کو تحریک کی ذمہ داری اٹھانے  کا  اہل سمجھتے ہیں اسے  ہی بغیر کسی خوف لالچ  اور شخصی یا علاقائی تعصب کے  امیر جماعت منتخب کرتے ہیں   

بہت سے افراد  جماعت پر تبصرہ کرتے ہوے  یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی اسلامی تحریک ہے بہت سے مبصر جماعت اسلامی  کی سیاسی پالیسی پر تبصرہ کرتے هوئے جماعت کی نظریاتی  سوچ کو بھول  جاتے ہیں اور  کبھی نظریات پر تبصرہ کرتے ہوے سیاسی  مجبوریوں کو بھول جاتے ہیں اسی طرح تحریک میں بہت سے افراد کے نزدیک  تحریک کی نظریاتی  اٹھان سب سے اہم ہے  وہیں تحریک کے بوہت سے افراد کی نظر میں سیاسی کامیابیاں حاصل کر کے تحریک کے معاشرے کی زمام کار کو ہاتھ میں لے کر اصلاح کی کوشش اہم ہے -  تحریک کے بہت سے افراد کی راۓ میں تحریک کو ایک نوجوان قائد کی ضرورت  تھی جو تحریک کو سیاسی میدان میں کامیابیاں دلا سکے سراج الحق کی شکل میں ان کے پاس ایسی قیادت موجود تھی  جس میں قاضی حسسیں احمد کی عوامی سیاست کی خوبیاں اور سید منور حسن  کی نظریاتی اٹھان دونوں موجود تھیں اس سے بڑھ کر ایک نظریاتی سیاسی تحریک کی کامیابی کے لئے جس کرشماتی شخصیت کی تحریک  کو ضرورت تھی وہ  سراج الحق میں بدرجہ اتم موجود ہیں
یہ بات پیش نظر رہے کہ سید  منور حسن منتخب  ہونے والے  امرا نسبتاً جوان تھے  تحریک اسلامی کی قیادت عظیم جسمانی اور ذہنی مشقت کی متقاضی ہوتی ہے جس کا دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں میں تصور  بھی نہیں کیا  جا سکتا  بہت  سے افراد جانتے تھے سید  صاحب ایک ٹرم  کے لئے امیر جماعت ہیں اگلی مرتبہ وہ قیادت کا بار عظیم نہ اٹھا پائیں گے انتخاب سے پہلے  سید صاحب نے خرابی صحت کی وجہ سے شوری  کے سامنے امارت سے معذرت ظاہر  کی لیکن شوریٰ نے ان کی معذرت قبول نہ کی  اور ان کا نام امارت کے لئے تجویز کیا  جس معذرت کو شوریٰ نے قبول نہ کیا اس کو بہت سے اراکین جماعت نے قبول کر لیا یقینا انتخاب کے وقت  بہت سے اراکین جماعت کے سامنے یہ نکتہ بھی پیش نظر ہو گا  
ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہمارے نزدیک اصل کام دین کی فکری تجدید اور احیا ہے تو یہ کام ایک خاص طرح کی حکمت عملی کا متقاضی ہے۔اگر ہم نیا سیاسی منظر ترتیب دینا چاہتے ہیں تو اس کی حکمتِ عملی بالکل دوسری ہو گی۔ اگر تزکیہ نفوس کرنا چاہتے ہیں توپھر ہمیں کوئی خانقاہ آباد کرنا ہو گی۔ اگر ہم یہ سب کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ہر طرح کے لوگ چاہییں جو فطری طریقے سے نمایاں ہوں اور فطری اسلوب ہی میں اپنا کام کریں۔ہم عالم کو سیاست دان بنا نے کی کوشش کریں نہ سیاست دان کو مدرس اور مربی۔