Wednesday, 14 May 2014

ہمیں اصل "خطرہ" کس سے ہے ؟

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہماری قوم بلکہ اقوام عالم  کی حالت اس گھوڑے سے بھی بری ہے  جس کی آنکھوں پر کھوپے لگے ہوتے ہیں تاکہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے اور جدھر کو دوڑائیں دورتہ چلا جائے
اقوام عالم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلام ان کی "تہذیب" کے لئے خطرہ ہے اس خطرے کو بچ کر چند سرمایہ دار  جنگوں کا کھیل کھیلتے ہیں جو لاکھوں لوگوں کی جانیں لیتا ہے لیکن یہ سرمایہ دار امیر سے امیر تر ہوتے ہیں
مسلم ممالک کی افواج  اپنے عوام کو یہ بتاتی ہیں کہ پوری دنیا اپ کی دشمن ہے صرف ایک وہی ان کو اس خطرے سے بچا سکتے ہیں اس "خطرے" کو جواز بنا کر مصر پاکستان اور ترکی میں تعیش اقتدار اور طاقت کا کھیل کھلا جاتا ہے اس کھیل کا مہرہ کبھی فرقہ پرست مولوی بنتا ہے کبھی قوم پرست اور کبھی لبرل مزے کی بات تو یہ ہے کہ "خطرہ" جس سے دہرایا جاتا ہے یہ سارا کھیل اسے خطرے کے کھلاڑیوں کی کھلے عام امداد سے ہوتا ہے

نہ تو اقوام عالم  کی "تہذیب" کو اسلام سے کوئی خطرہ ہے نہ ہی اسلام کو ایک یہودی نصرانی یا ہندو سے کوئی خطرہ ہے
خطرہ تو ان سرما یہ داروں ، جاگیرداروں ، جرنیلوں کو ہے
گھوڑے  کو کھوپے اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ وہ آزادی کا خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ہمیں تو کھوپے لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہے






No comments:

Post a Comment