نامے کو دیکھا جائے تو یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے
١٩٧٧ کے انتخابات میں چند حلقوں پر دھاندلی کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک اور بھٹو کے درمیان مزاکرات کامیابی کے نزدیک تھے کہ پی این اے کی تحریک کے اہم رہنما اصغر خان نے ایک بیان میں فوج کو عوام کی مدد کے لئے بلانے کا بیان جاری کیا اس بیان کو تمام اخبارات نے شہ سرخی کے طور پر چھاپا اگرچہ پی این اے کے تمام رہنماؤں نے اس بیان کی مذمت کی اور اصغر خان نے یہ بیان واپس لے لیا بعد میں بھٹو نے اپوزیشن کے مطالبات بھی تسلیم کر لئے اور معاہدہ بھی ہو گیا لیکن نقصان ہو چکا تھا
پی این اے کی تحریک کے سینکڑوں کارکنان پر فوج نے گولی چلائی دھاندلی کے خلاف چلنے والی اس تحریک میں ہونے والی تمام شہادتوں کے مقصد پر فوج کر مارشل لاء کی وجہ سے سوالیہ نشان لگ گیا کہنے والے آج بھی کہتے ہیں کہ ان تمام قربانیوں کا مقصد فوج کی راہ ہموار کرنا تھا
موجودہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یہ بات ہر کوئی جانتا ہے اور الیکشن کمیشن نے یہ بات تسلیم کی کہ سندھ اور خاص طور پر کراچی میں انتخابات کا آزادانہ اور منصفانہ انعقاد ممکن نہیں ہو سکا ، فاٹا میں دھاندلی ہوئی اور باجوڑ میں تو پولنگ سٹیشنز سے ڈبے تک اٹھا لئے گئے اور ایک من پسند بندے کی کامیابی کا "فرشتوں " نے اعلان کر دیا . تحریک انصاف نے کراچی میں ایک حلقے میں کامیابی پر اکتفا کیا فاٹا میں دھاندلی کو یکسر نظر انداز کیا اور دھاندلی کے خلاف اپنی کیمپین پنجاب کے چار حلقوں تک محدود رکھی یہ تحریک انصاف کی پہلی غلطی تھی اس کے بعد یہ تحریک جس انداز سے آگے چلی اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تحریک انصاف کی دھاندلی کے خلاف تحریک کو اسٹبلشمنٹ نے ہائی جیک کر لیا ہے اور وہ تحریک کی مقبولیت کے بل پر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں
عمران خان کو جہانگیر ترین اور شیخ رشید نے خیبر پختونخواہ سے مستعفی ہونے اور موجودہ نظام کو تلپٹ کرنے کے مطالبے پر راضی کیا پارٹی کے اندر اس مطالبے کے حق میں اسد عمر اور جہانگیر ترین نے لابنگ کی
پارٹی کے اندر عمران کو اس سیاسی خود کشی سے روکنے والوں میں جاوید ہاشمی گروپ تھا جن کو بعد میں کسی میٹنگ میں بلایا تک نہیں گیا اور عارف علوی کو اس حماقت کی مخالفت کرنے پر شیریں مزاری نے جماعتیا تک کہا
ویسے کوئی یہ دیکھنے کی زحمت کرے گا کہ شیخ صاحب کے عمران خان کے بارے میں آج سے چار سال پہلے کیا خیالات تھے اور شیریں مزاری نے عمران خان کے حوالے سے کتنی منفی سیاست کی تھی اور اسد عمر لاہور کے جلسے سے
پہلے کہاں تھے ؟
عمران خان نے کسی سیاسی جماعت سے مشوره کرنا گوارا نہیں کیا لانگ مارچ کا فیصلہ کرنے کے ایک مہینے کے بعد جماعت اسلامی کے پاس اسد عمر کو بھیجا جنھوں نے خیبر پختون خواہ میں جماعت سے PTI کے ساتھ مل کر استعفے دینے کا مطالبہ کیا جماعت نے اس فیصلے کو سیاسی خودکشی سے تعبیر کیا
بات یہیں ختم نہیں ہوتی
اسلام آباد اور راولپنڈی میں لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی آیکٹویٹی نہیں کی گئی کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا اور نہ ہی کہیں کوئی بینر آویزاں کیا گیا
اسلام آباد اور راولپنڈی کی تنظیم نے کارکنان کی رہائش اور خوراک کے لئے کوئی بندوبست نہیں کیا اسد عمر جلسہ ختم ہوتے ہی اپنے ایف -ٹن میں واقع رہائش گاہ چلے گئے شیخ رشید کوئی کارکن نہیں لائے تھے یہاں تک کہ کوئی گاڑی بھی ان کے ساتھ نہیں تھی جلسہ ختم ہونے پر سرکاری گاڑی میں لال حویلی چلے گئے
بات یہاں تک بھی محدود نہیں ہے
گوجرانوالہ میں جب آزادی مارچ پر پتھراؤ ہوا تو فائرنگ کی افواہ پھیلانے
والے بھی شیخ صاحب تھے بلکہ شیخ صاحب نے تو خانہ جنگی شروع ہونے کی پیشنگوئی بھی کردی تھی اب یہ مطالبہ کہ ریڈ زون میں آگے بڑھ کر معاملات کو اپنے ہاتھ میں کر لیں اس سب کا آخر مقصود ہے کیا ؟ اسلام آباد میں چند لاشیں گرا کر ان پر اپنی سیاست کا تاج محل کھڑا کرنے کے خواہشمند کامیاب ہوں گے یا تحریک انصاف کا وہ کارکن جو انصاف کی امید پر اس برستی بارش میں اپنی بچی کے ساتھ بیٹھا ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن فل حال "پنڈی" کی "حویلی" والوں کا پلڑہ بھاری لگتا ہے



No comments:
Post a Comment