پنجابی کی ایک کہاوت ہے"لچ تلنا" اس کہاوت کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک دیہاتی دیہات سے شہر آیا تو اپنے ساتھ اپنا کھانا جو کے گُڑ والی ایک موٹی سی روٹی تھی ساتھ لیتا آیا۔ شہر میں گھومتے ہوئے اسے ایک ایک جگہ ایک بندہ کڑائی میں کچھ تلتے نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ گڑ والی چھوٹی چھوٹی ٹکیاں تیل میں تل رہا تھا۔ اس نے پوچھا یہ تم کیا کر رہے ہو تو وہ بولا میں " لُچیاں " تل رہا ہوں۔ اس نے اپنی موٹی سی روٹی نکالی، جو کہ لچیوں کے مقابلے میں بہت ہی بڑی تھی، اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھی لچ تل لو توبھائی ہمارےپاکستان کےبہت سےکالم نگار بھی اس دیہاتی کی طرح ہیں اب ہم ان معزز کالم نگاروں کو دیہاتی کہنے کی جسارت تو نہیں کریں گے کیونکہ وہ دیہاتی تو بیچارہ شریف اور سادہ بندہ تھا جو بیچارہ اپنا "لچ تلنے" کے چکر میں بدنام ہو گیا ہمارے یہ معزز کالم نگارتو "لچے تلنے" میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جہاں پر ان کو چھوٹی چھوٹی لچیاں تلتا کوئی بندہ نظر اتا ہے وہاں یہ اپنا لچ لے کر پھنچ جاتے ہیں-
ایک صاحب نے بھی گزشتہ روز ایسے ہی ایک لچ تلی اب میں جماعت اسلامی ، جماعت اسلامی کے انتخابات ، جماعت کے بتیس ہزار ارکان کے اوپر اسٹبلشمنٹ کے اثر انداز ہونے ، اور جماعت کے قائدین کے بارے میں نازیبا الفاظ کی تفصیلات میں تو نہیں جاؤں گا بس ان کے اپنے کالم کا ایک بہت بڑا تضاد آپ کے سامنے یہ ثابت کرنے کو پیش کرتا ہوں کہ اپنی لچ تلنے کے لئے یہ اصحاب کیسے کیسے کمالات دکھانے سے نہیں چوکتے-
کالم کے دوسرے حصے میں قاضی حسین احمد کے حوالے سے پہلے یہ کہا گیا کہ قاضی حسین احمد نے انتخابات میں کامیابی کے لئے ایک لمبا پلان ترتیب دیا تھا لیکن وقتی جوش میں "دوسروں" کے جھانسے میں آ کر قاضی حسین احمد انتخابات میں حصہ لے بیٹھے آگے اس حوالے سے انتخابات مین ناکامیوں پر تبصرہ ہے لیکن آگے چل کر فرماتے ہیں کہ قاضی حسین احمد نے انتخابات میں بائیکاٹ کا بلنڈر دو مرتبہ کیا ایک ہی کالم میں کالم نگار پہلے قاضی حسین احمد مرحوم کے انتخابات میں حصہ لینے کو ایجنسیوں کے جھانسے میں آ کر کی جانے والی غلطی کہتا ہے پھر قاضی حسین احمد کے انتخابات میں حصہ لینے کو بھی بلنڈر کہا جاتا ہے یعنی حصہ لیں تو ایجینسیوں کے ایجنٹ اور نہ لیں تو بلنڈر-
لب لباب ان صاحب کے کہنے کا یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے منظم تحریک کے سب سے قابل افراد اور اس کی قیادت کو پاکستان کے ایک ایسے ادارے نے یرغمال بنا کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروا لئے جس کے اپنے فیصلے واشنگٹن سے کولن پول کی ایک کال پر ہو جاتے ہیں - پاکستان کے ان تمام "اہل دانش " سے گزارش ہے کہ حضرات یہ تحریک اس کی قیادت اور اس کے فیصلہ ساز ادارے اتنے مظبوط ہیں کہ مخالفتوں کے طوفان میں بھی حق بات کہنے سے نہیں چوکتے یقین نہ آئے تو تحریک اسلامی کی شوریٰ کا بیان پڑھیں جو آئ ایس پی آر کے بیان کے جواب میں آیا تھا-
رہی بات سید صاحب کی تو وہ افراد جو کل تک ایسٹیبلشمنٹ کی خدمات کی لمبی لسٹیں ہاتھوں میں لئے سید منور حسن صاحب کو معطون کرتے نہ تھکتے تھے جو کہتے تھے کہ سید صاحب نے ہماری سالوں کی محنت اور رابطوں پر پانی پھیر کر تحریک کو طاقت کے عفریب کے سامنے کھڑا کر دیا ہےآج وہ تمام اصحاب سید صاحب کی محبّت کا بخار اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے کی لمبی فہرستیں ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں ایسے بھی کالم نگار ہیں جنھوں نے اپنے قلم کے نشتر سید صاحب پر استعمال کیے اسٹبلشمنٹ کی "مہربانیوں" کے تذکروں اور تحریکیوں کی "ناشکری" کی داستانوں کی داستانیں لکھی آج وہ بھی سید صاحب کو سقراط بنا کر پیش کرتے ہیں اور تحریک کے کارکنان اور ارکان ان تحریروں کو جو قدر و منزلت دیتے ہیں اس سے جھوٹ اور منافقت کی طاقت اور قوت کا اندازہ ہو جاتا ہے-

zabardast
ReplyDeletewell said
ReplyDelete