Thursday, 3 April 2014

تحریک اسلامی کے پانچویں امیر سراج الحق




 ہماری تاریخ میں کتنے لوگ ہو گزرے جنھوں نے یہ خواہش کی لیکن وہ سیّد مودودی کی طرح خوش بخت ثابت نہ ہو سکے۔شبلی کے منصوبے کاغذوں تک محدود رہے۔ ابوالکلام نے جماعت تک بنا ڈالی لیکن اگرکوئی ان کی داستانِِ حسرت سننا چاہے تو ان کا وہ نوحہ پڑھ لے جسے جامع مسجد دلی کے میناروں نے سنا اور رو دیے۔ علامہ اقبال تو زندگی کے آخری ایّام میں بھی ایک جماعت کا خواب دیکھتے رہے لیکن اس کی تعبیر کوئی نہ دے سکا۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودی

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کا معاملہ ان سے مختلف رہا۔ ان کی علمی آراء ، نتائج فکر ،حکمتِ عملی، ہر پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور سچ یہ ہے کہ اﷲ کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کے بعد یہ کس کی حیثیت ہے کہ اس کی شخصیت کا ہر پہلو تنقید اور نقص سے پاک ہو، لیکن اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ سیّد مودودی کے افکار نے ایک زمانے پر اپنا اثر ڈالا۔ ان کی فکر کو کروڑوں لوگوں نے دین کی واحد تعبیر کے طور پرقبول کیا ۔ ایک جماعت وجود میں آئی جس کے نظم کے تحت لاکھوں لوگوں نے اس فکر کے فروغ کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ سیاست اور سماج کی وادیوں میں اس کی صداے بازگشت سنی گئی۔




جماعت اسلامی آج ایک منظم جماعت اور ادارہ ہے۔ اس کی اساس ایک فکر پرہے اور یہی جماعت سے وابستگی کے لیے سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ سراج الحق اس جماعت کے پانچویں امیر ہیں ۔
پانچوں امراء کے مابین کوئی خونی تعلق ہے نہ علاقائی۔ بانی امیر حیدر آباد دکن کے تھے تو دوسرے پنجاب سے۔ تیسرے پٹھان تھے تو چوتھے ’’مہاجر‘‘ اور پانچویں مشوانی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان سب کا انتخاب ہوا۔ جماعت اسلامی کے ارکان نے انھیں اپنے ووٹوں سے چُنا۔ ووٹ دینے والے چاروں صوبوں کے تھے اور ہر رنگ و نسل کے۔ لیکن ان کی تربیت اس نہج پر ہوئی کہ
ایسا کوئی تعلق، رشتہ اور وابستگی ان کے نزدیک امارت کا پیمانہ نہیں تھی جنھیں سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کی بنیاد پر ہمارے ہاں کم و پیش ہر سیاسی و مذہبی جماعت میں قیادت کا انتخاب ہوتا ہے۔ ’’انتخاب‘‘ کا لفظ شاید معاملے کی صحیح تعبیر نہ ہو،

درحقیقت لوگ رنگ، نسل اور وراثت کے اصول پر اپنی جماعتوں پر مسلط ہوتے اور اسے اپنا استحقاق سمجھتے ہیں ۔جماعت کے اندرونی انتخابی کلچر کا معاملہ ہر دوسرے انتخاب سے بالکل مختلف ہے۔ مثلاٗ پہلے امیر سید ابو االا علیٰ نے جب ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا اور جماعت کا نظریہ انہیں پیش کرنے کے بعد کہا کہ آپ یہ نہ سمچھیں کہ میں نے آپ کو جمع کیا ہے اور میں ہی آپ کا امیر ہوں گا۔ بلکہ آپ جس کو مناسب سمجھیں امیر بنائیں۔ اور میں اپنے سے بہتر شخص کے لیے ہر وقت جگہ خالی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کم و بیش یہی اسپرٹ ہر انتخاب میں پائی جاتی ہے۔ یہاں ذمہ داری کو بار گراں سمچھتے ہو ئے ہر کو ئی اس سے جلد سبکدوش ہونا چاہتا ہے۔ اور یہی بنیادی سائنس ہی سارے انتخاب کی گیم بدل دیتی ہے -

میڈیا اور لبرل حضرت کی گھڑی ہوئی یہ منطق کہ سید منور حسن پاکستان کی طاقتور اسٹبلشمنٹ کےخلاف سٹینڈ  لینے کی وجہ سے ارکان جماعت کی حمایت سے محروم ہو گئے یہ بات کہنے والے نہ جماعت کو جانتے ہیں نہ تاریخ کو اور نہ تاریخ  میں جماعت  کے عظیم کردار کو  لیکن  ہم بخوبی  نظریات  سے عاری ان افراد کی تحریکوں کے ماضی  سے واقف ہیں اور  پاکستان کے عوام بھی   ان افراد کی اچانک فوج کے لئے جاگ اٹھنے والی"محبّت" سے  بخوبی واقف  ہیں-  

جماعت اسلامی پاکستان میں فوج کے کسی بھی غیر جمہوری کردار کے ہمیشہ خلاف رہی ہے مولانا مودودی نے ایوبی آمریت کا پہلے دن سے مقابلہ کیا اور حقیقت میں پاکستان کی آمرانہ  حکومتوں کے اقدامات کا   چاہے وہ پٹھانکوٹ پر حملہ کرنے کے حوالے سے سید مودودی  کے مشورے سے فوج کے پہلے سربراہ کا انکار ہو،  مولانا مودودی کی تختہ دار پر عزیمت ہو  مشرقی پاکستان میں فوج کی  شکست ہو افغانستان میں گلبدین حکمتیار کو اقتدار سے محروم رکھنے کے لئے کی گئی تخلیق ہو  یا کشمیر پر مشرف کا یو ٹرن  ہو کا سب سے بڑا خمیازہ جماعت اسلامی کو بھگتنا پڑا ہے- ان تمام تاریخی حقائق  کے باوجود جب یہ کہا جاتا ہے کہ سید منور حسن نے جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کے مقابل کھڑا  کر دیا تھا تو یہ ایک مضحکہ خیز سی بات لگتی ہے اور کہنے والے اس سے پہلے یہ عجیب و غریب منطقیں تمام امراے جماعت کے خلاف کرتے رہے ہیں ایک صاحب نے فرمایا تھا "مودودی صاحب کو اگر نکال دیا جائے تو پاکستان میں مہمات سے بہتر جماعت موجود نہیں" پھر انہی    جو لوگ جماعت کے اندرونی نظام کو قیادت کو اور اختیارات کی تقسیم کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ  تحریک میں پالیسیاں نہ تو فرد واحد بناتا ہے اور نہ ہی اس کی پسند اور ناپسند  سے تحریک  کے فیصلے کے جاتے  ہیں


امریکہ میں ٩١١ کے واقعے کے بعد  جماعت اسلامی کا موقف بالکل واضح رہا ہے کہ  امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ" دراصل اسلام کے خلاف جنگ ہےجماعت اسلامی نے اس جنگ کی روز اول سے مذمت کی ہے جماعت اسلامی  "دفاع افغانستان پاکستان  کونسل " کی بانی جماعت تھی افغانستان پر امریکہ کے حملے  کے بعد شدید احتجاج کیا پھر جب وزیرستان میں پہلا آپریشن کیا گیا  اور پھر جس طرح واشنگٹن میں جا کر خوشیوں کے شادیانے بجاے گئے اس پر قاضی حسین احمد کا احتجاج آج بھی قومی آسمبلی کے ریکارڈ  میں موجود ہے


اس لئے یہ بات کہنا کہ راتوں رات سید صاحب نے کوئی نئی بات کر دی تھی عقل سے پیدل لوگوں کی منطق  سے زیادہ کچھ نہیں جماعت اسلامی آج بھی اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ ایک آمر نے اپنے غیر آئینی' اور غیر قانونی  اقتدار کو دوام دینے کے لئے غیروں کی جنگ میں پاکستان کی فوج اور ملک کو جھونک دیا ہے اور  اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ دوسروں کی اس جنگ سے نکلا  جائے اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اراکین جماعت جا جماعت کی شوریٰ کی راۓ اس سے مختلف ہو سکتی ہے تو وہ تحریک اسلامی کے مزاج  کو نہیں سمجھتا امریکہ کی جنگ ، اس میں اتحادی بنانے کے مضمرات  اور طاقت سے ہر مسلۓ کے حل کے خلاف  تحریک اسلامی کے تمام ارکان میں مکمل یکسوئی پائی جاتی ہے اور اس موقف کو واضح انداز سے بیان کرنے پر  تحریک کی شوریٰ نے جس طرح قائد کی تائید کی تھی وہ بہت کچھ سمجھانے کو کافی ہے





عالم عرب میں انے والے انقلاب  اور اس کے بعد منتخب اسلامی حکومتوں کے خلاف عالمی استعمار کے کی چڑھائی کے بعد اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے اراکین جماعت  اخوان سے کچھ مختلف سوچ رہے ہوں گے تو وہ دونوں اسلامی تحریکوں کی تاریخ سے واقفیت نہیں رکھتا


       
قاضی حسین احمد نے جب  انتخاب میں اپنی خرابی صحت کی وجہ سے  امارت کا بار اٹھانے سے معذرت کی شوریٰ نے ان کی معذرت قبول کر کے انتخاب میں اراکین کے سامنے تین نام تجویز کیے اراکین نے کثرت راۓ سے سید منور حسن کو جماعت اسلامی کی امارت کے لئے منتخب کیا سید منور حسن  کو اراکین کی بھاری اکثریت نے منتخب کیا لیکن کثیر تعداد میں اراکین نے  سراج الحق بھائی کا نام بھی تجویز  کیا تھا اس سے پہلے ہونے والے تمام انتخابات میں تقریباً اتفاق رائے  سے امیر جماعت کا انتخاب ہوتا تھا اس لئے یہ بات کرنا کہ جماعت اسلامی کے اس انتخاب میں روایات سے ہٹ کر کوئی بات ہوئی ہے برخلاف  واقعہ ہے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ جماعت اسلامی کے ہر نئے امیر کا انتخاب پہلے سے مختلف روایت کا حامل رہا ہے بلکہ  اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جہاں شخصیت  پرستی کا کوئی تصور نہیں اور تحریک کے افراد جس کو تحریک کی ذمہ داری اٹھانے  کا  اہل سمجھتے ہیں اسے  ہی بغیر کسی خوف لالچ  اور شخصی یا علاقائی تعصب کے  امیر جماعت منتخب کرتے ہیں   

بہت سے افراد  جماعت پر تبصرہ کرتے ہوے  یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی اسلامی تحریک ہے بہت سے مبصر جماعت اسلامی  کی سیاسی پالیسی پر تبصرہ کرتے هوئے جماعت کی نظریاتی  سوچ کو بھول  جاتے ہیں اور  کبھی نظریات پر تبصرہ کرتے ہوے سیاسی  مجبوریوں کو بھول جاتے ہیں اسی طرح تحریک میں بہت سے افراد کے نزدیک  تحریک کی نظریاتی  اٹھان سب سے اہم ہے  وہیں تحریک کے بوہت سے افراد کی نظر میں سیاسی کامیابیاں حاصل کر کے تحریک کے معاشرے کی زمام کار کو ہاتھ میں لے کر اصلاح کی کوشش اہم ہے -  تحریک کے بہت سے افراد کی راۓ میں تحریک کو ایک نوجوان قائد کی ضرورت  تھی جو تحریک کو سیاسی میدان میں کامیابیاں دلا سکے سراج الحق کی شکل میں ان کے پاس ایسی قیادت موجود تھی  جس میں قاضی حسسیں احمد کی عوامی سیاست کی خوبیاں اور سید منور حسن  کی نظریاتی اٹھان دونوں موجود تھیں اس سے بڑھ کر ایک نظریاتی سیاسی تحریک کی کامیابی کے لئے جس کرشماتی شخصیت کی تحریک  کو ضرورت تھی وہ  سراج الحق میں بدرجہ اتم موجود ہیں
یہ بات پیش نظر رہے کہ سید  منور حسن منتخب  ہونے والے  امرا نسبتاً جوان تھے  تحریک اسلامی کی قیادت عظیم جسمانی اور ذہنی مشقت کی متقاضی ہوتی ہے جس کا دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں میں تصور  بھی نہیں کیا  جا سکتا  بہت  سے افراد جانتے تھے سید  صاحب ایک ٹرم  کے لئے امیر جماعت ہیں اگلی مرتبہ وہ قیادت کا بار عظیم نہ اٹھا پائیں گے انتخاب سے پہلے  سید صاحب نے خرابی صحت کی وجہ سے شوری  کے سامنے امارت سے معذرت ظاہر  کی لیکن شوریٰ نے ان کی معذرت قبول نہ کی  اور ان کا نام امارت کے لئے تجویز کیا  جس معذرت کو شوریٰ نے قبول نہ کیا اس کو بہت سے اراکین جماعت نے قبول کر لیا یقینا انتخاب کے وقت  بہت سے اراکین جماعت کے سامنے یہ نکتہ بھی پیش نظر ہو گا  
ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہمارے نزدیک اصل کام دین کی فکری تجدید اور احیا ہے تو یہ کام ایک خاص طرح کی حکمت عملی کا متقاضی ہے۔اگر ہم نیا سیاسی منظر ترتیب دینا چاہتے ہیں تو اس کی حکمتِ عملی بالکل دوسری ہو گی۔ اگر تزکیہ نفوس کرنا چاہتے ہیں توپھر ہمیں کوئی خانقاہ آباد کرنا ہو گی۔ اگر ہم یہ سب کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ہر طرح کے لوگ چاہییں جو فطری طریقے سے نمایاں ہوں اور فطری اسلوب ہی میں اپنا کام کریں۔ہم عالم کو سیاست دان بنا نے کی کوشش کریں نہ سیاست دان کو مدرس اور مربی۔

1 comment: